ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رافیل :مودی نے اپنی چوری تسلیم کرلی !راہل فضائیہ سے پوچھے بغیرمعاہدہ میں تبدیلی کی گئی

رافیل :مودی نے اپنی چوری تسلیم کرلی !راہل فضائیہ سے پوچھے بغیرمعاہدہ میں تبدیلی کی گئی

Wed, 14 Nov 2018 13:31:13    S.O. News Service

نئی دہلی14؍نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) رافیل طیارہ سودا کے معاملے میں مودی حکومت کو مسلسل نشانہ بنانے والے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے ایک بار پھر آج وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامے میں اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے ۔راہل گاندھی نے آج ٹوئٹ کرکے کہاکہ سپریم کورٹ میں مودی جی نے تسلیم کی اپنی چوری، حلف نامہ میں تسلیم کیا کہ انہوں نے فضائیہ سے پوچھے بغیر کنٹراکٹ تبدیل کیا اور30 ہزا ر کروڑ روپے امبانی کی جیب میں ڈالے ، پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔قابل ذکر ہے کہ رافیل سودے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت سے فرانس سے خریدے جانے والے طیاروں کی قیمت بتانے کو کہا تھا۔ حکومت نے ایک حلف نامہ دائر کرکے کل مہر بند لفافہ میں عدالت کو سودے سے متعلق تفصیلات اور طیاروں کی قیمت بتائی ہے ۔کانگریس کے میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈی سالٹ کے چیف ایگزیکیوٹیو افسر کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ دباو ڈال کر کرائے گئے انٹرویو اور جھوٹ سے رافیل گھپلے کو نہیں دبایا جاسکتا۔ قانون کا پہلا ضابطہ یہ ہے کہ یکساں فائدہ حاصل کرنے والے اور شریک ملزم کے بیان کی اہمیت نہیں ہوتی۔ دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ استفادہ کرنے والا اور ملزم اپنے ہی معاملے میں جج نہیں ہوسکتے ۔ سچائی کے باہر آنے کے اپنے راستے ہوتے ہیں۔کانگریس نے آج کہا کہ رافیل سودے کے بارے میں حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ میں حقائق کی اطلاعات دینے کے بجائے پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے اور حکومت کو یہ بتانا چاہئے کہ آفسیٹ پارٹنر بنانے کے سلسلے میں دفاعی خریداری طریقہ کار2013میں سابقہ تاریخ سے ترمیم کیوں کی گئی۔کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے یہاں پارٹی کی معمول کی بریفنگ میں کہا کہ اس سودے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والے عرضی گذاروں کو حکومت کے حلف نامے کی جو نقل دی گئی ہے ان کو پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں معلومات دینے کے بجائے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں لیکن ملک حکومت سے پانچ بنیادی سوالات کا جواب چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پانچ اگست2015کو دفاعی خریداری طریقہ کار2013میں سابقہ تاریخ سے ترمیم کرکے دفاعی سودوں پر دستخط سے پہلے فروخت کنندہ کے ذریعہ آفسیٹ پارٹنر کی فہرست وزارت دفاع دینے کی لازمیت ختم کردی۔ پہلے کی پالیسی کے مطابق وزارت دفاع آفسیٹ کمپنی کا تجزیہ کرنے کے بعد سودے پر دستخط کرنے سے پہلے اس فہرست کو منظوری دیتی تھی۔ لیکن ترمیم کے بعد فروخت کنندہ وزارت دفاع کو اپنے آفسیٹ پارٹنر کی معلومات سودے پر دستخط کے بعد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ بتائے کہ یہ ترمیم سابقہ تاریخ سے کیوں کی گئی۔ اس کے پیچھے کیا مقصد تھا؟


Share: